جو خدا کا شریک مانے مسلمان وہ بھی نہیں جو مصطفی کا شریک مانے انسان وہ بھی نہیں۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
توحید ایک ایسا نشہ ہے جو مرشد کے ذریعے چڑھتاہے ،عشق کے ذریعے بڑھتاہے اور پھر بند ے کو خدا سے ملادیتاہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
جس کو بھی خدا ملا ۔۔۔ مصطفی کے وسیلے سے ملا۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
تصورِ شیخ ، باطنِ شیخ سے انوار و تجلیات اور فیوض وبرکات حاصل کرنے کا وسیلہ ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
شریعت اقوالِ مصطفی کا نام ہے ، اور طریقت احوالِ مصطفی کا نام ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
بارگاہِ رسالت میں جس نے عقل کو پیش کیا ۔۔۔ وہ ابوجہل ہوگیا اور جس نے عشق پیش کیا ۔۔۔ وہ ابوبکر ہوگیا۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
علمِ قرآن اور عملِ نبوت کو کبھی جدا نہ کیاجاسکے گا۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
توحید کا سراغ عشقِ مصطفی کے چراغ سے ہی ملتاہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
وہ توحید جس میں نبی کی توہین کا پہلو شامل ہو ۔۔۔ ابلیسی توحید ہے اور وہ توحید جس میں احترامِ نبوت کا تصور شامل ہو ۔۔۔ جبریلی توحید ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
ہم یہ نہیں کہتے کہ خدا ومصطفی کی ذات ایک ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں خداومصطفی کی بات ایک ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
دین صرف کتابوں سے نہیں ملتا ، دین آستانوں سے بھی ملتاہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
یقین جانیں! کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تیس پاروں کے ایک ایک ورق میں اپنے محبوب کے حسن وجمال کے جلوے سمیٹ کر رکھ دےئے ہیں۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
خدا کی قسم یہ قرآن جو ہمارے پا س موجود ہے یہ جمال محمدی کا آئینہ ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
خدا کی قسم ۔۔۔ یہ قرآن جو ہمارے پاس موجو دہے یہ جمالِ محمدی کا آئینہ ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
قبولیت دعا کی دو شرطیں ہیں ۔۔۔(۱) آنکھ کا آنسو۔۔۔(۲)دل کا درد۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
توحید کا چشمہ بارگاہِ مصطفی سے ہی ابلتاہے ، تصور توحید ، تصور رسالت سے ہی ابھرتاہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
طریقت اس لئے ضروری ہے کہ اس کے ذریعے شریعت پر عمل آسان ہوجاتاہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
تصور شیخ ، مرشد کے کمالات کے جذب کا واسطہ ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
دامنِ مصطفےٰ کو چھوڑ کر کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
یادرکھو! کہ قربِ خدا کا ذریعہ فقط قربِ مصطفی ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
فقر۔۔۔ رقص وسرور کانام نہیں ۔۔۔ احتسابِ ہست و بود کانام ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
شریعت عینِ طریقت ہے اور طریقت عینِ شریعت ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
قرآں اگر علمی مرتبے میں لَارَیْبَ فِیْہِ ہے تو نبی عملی مرتبے میں لَاعَیْبَ فِیْہِ ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
چونکہ محبوب خدا ، صورت کے اعتبار سے مدنی اورمکی ہیں اس لئے قرآن کی سورتوں کو بھی محبوب کی صورتوں سے منسوب کرکے مدنی اور مکی بنادیاگیا۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)
طریقت شریعت کی خادم ہے۔ (حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ)

 حضرت علامہ ابوالبیان پیر محمد سعیداحمد مجددی رحمۃاللہ علیہ کی وفات کے بعد آپ کاکاشت فرمودہ چمن اپنی بہاریں روز افزوں بکھیر رہاہے، اس گلستان علم وعرفان کی آبیاری پروردۂ آغوش ولایت حضرت علامہ صاحبزادہ پیر محمد رفیق احمد مجددی مدظلہٗ فرمارہے ہیں۔

حضرت جانشین محترم مدظلہٗ ایک بلند پایہ علمی ، فکر ی اورروحانی شخصیت ہیں۔ قدرت نے آپ کو یقین محکم ، عمل پیہم ، بلند ہمتی اوروسعت قلب ونظر جیسی گوناگوں صفات سے متصف فرمایاہے۔ آپ کی زیر قیادت عالمی ادارہ تنظیم الاسلام کا قافلۂ شوق اندرون وبیرون ملک علمی، ادبی ، فکری، تحقیقی ، تصنیفی ، تبلیغی اورروحانی خدمات سرانجام دے رہاہے اور بیسیوں مساجد و مدارس کی تعمیر وتأسیس کا مبارک سلسلہ جاری ہے ۔ یہ مدارس علوم اسلامیہ وعصریہ کا حسین سنگم ہیں جہاں ہزاروں طلباء و طالبات زیور تعلیم وتربیت سے آراستہ ہورہے ہیں ۔یوںآپ کی انتھک کاوشوں سے عالمی ادارہ تنظیم الاسلام کا دائرۂ عمل وسیع سے وسیع ترہورہاہے۔ والحمد للہ علیٰ ذالک

آپ نے اپنے مرشد ومربی حضرت ابوالبیان رحمۃ اللہ علیہ کے نقوش سیرت کو اپناتے ہوئے نہایت تھوڑے وقت میں کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں جن میں خصوصاً دختران اسلام کی تعلیم وتربیت کیلئے عظیم الشان تنظیم الاسلام ایجوکیشن سنٹر کا قیام، درگاہ حضرت ابوالبیان رحمۃ اللہ علیہ کی تعمیر وتشکیل ، مرکزی جامع مسجد نقشبندیہ کی تعمیر و تزئین نو اورتیسری بلڈنگ کا اضافہ ،ابوالبیان ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے لئے دو عدد خوبصورت وسیع لائبریریاں اورجامعہ مدینۃ الاسلام کے طلباء کے لئے عظیم الشان تعلیمی و رہائشی بلاکس کی تعمیر وتکمیل ہے۔

آپ نے ارباب ذوق اور عامۃ المسلمین کی باطنی تطہیراور قلبی تنویر کاخوب سامان بہم پہنچایا ہے ۔جن میں سرفہرست ادارہ کے مرکزی سیکرٹریٹ درگاہ حضرت ابوالبیان رحمۃ اللہ علیہ میں منعقدہ ہفتہ وار محفل ذکر ہے ۔ جہاں سینکڑوں سالکین طریقت اپنے قلب وروح کے انجلاءویقین کا سامان پاتے ہیں۔علاوہ ازیں یہاں امت مسلمہ کاقلبی رشتہ قرآن حکیم سے مضبوط تر کرنے کے لئے عظیم الشان سالانہ انٹرنیشنل محفل حسن قرأت کا اہتمام کیاجاتاہے جن میں دنیائے اسلام کے نامور قرأ عظام اپنے لحن دائودی سے عوام الناس کے قلوب واذہان کو انوار قرآنی سے منور کرتے ہیں۔ تعلیمات کتاب وسنت کو عام کرنے کی غرض سے شب وروز دروس قرآن وحدیث کی صورت میں بھٹکے ہوئے آھو کوسوئے حرم لیجانے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ نیزحضرت امام ربانی قدس سرہ ُالعزیز کی تجدیدی خدمات سے عوام وخواص کو روشناس کروانے کے لئے عشرئہ امام ربانی کو نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منایا جاتاہے ۔حضور اکرم نور مجسم ﷺکی ولادت باسعادت کی خوشی میں ماہ ربیع الاول میں سالانہ مشعل بردار جلوس نہایت تزک وا حتشام کے ساتھ نکالاجاتاہے جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا منفرد جلوس ہوتاہے۔علاوہ ازیں مساجد ومدارس کی تعمیر وتاسیس کا سلسلہ بھی جاری وساری ہے ۔

بفضلہ تعالیٰ ۲۰۱۱ ءسے حضرت ابوالبیان قدس سرہ ُالعزیز کی مذہبی وملی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تذکرہ حضرت ابوالبیان نہایت عقیدت واحترام سے منانے کاآغاز بھی ہوچکاہے۔

تصنیفی اورتحقیقی خدمات کے حوالے سے آپ نے حضرت ابوالبیان علیہ الرحمہ کی تصنیفات وتالیفات کو صوری اور معنوی خوبیوں سے مزین کر کے ادارہ کی تصنیفات کا اک معیار قائم کردیاہے ۔خصوصاًالبینات شرح مکتوبات اوردیگر کتب مقدسہ کو آپ نہایت احسن انداز میں منظر عام پر لارہے ہیں۔چشم بددور! آپ کے انقلابی افکار وخدمات نے عوام وخواص کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیاہے ۔ قُبِلَ مَنْ قُبِلَ بِلَاعِلَّۃٍ

با خدا دادگان ستیزہ مکن

کہ خدا دادہ را  خدا دادہ  است

درحقیقت یہ محض فضل ربانی اور تائید ایزدی ہے جو حضوراکرم ﷺکی توجہات قدسیہ اور خواجہ ابوالبیان رحمۃ اللہ علیہ کے تصرفات باطنیہ کا ثمرہ ہیں (ماشاء اللہ)

آپ کی زیرقیادت، اندرون وبیرون ممالک بالخصوص آسٹریلیا، انگلینڈ، کینیڈا ،سائوتھ آفریقہ ، ملائیشیامیںمدارس و مساجد کی تعمیر و تاسیس ، تعلیم وتربیت اورتبلیغ اسلام کا مبارک سلسلہ جاری ہے ۔ خصوصاً آسٹریلیا میں۲  ایکڑ قطعہ اراضی پر مشتمل نہایت خوبصورت اسلامک ہال کا قیام عمل میں آچکا ہے جہاںپنج وقتہ نماز اورجمعۃالمبارک کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار محفل ذکر کا اہتمام بھی ہورہاہے۔اس طرح دیاراسلام اوردیار کفر میں قال اللہاور قال رسول اللہﷺ کی صدائیں برابر جاری وساری ہیںاور نئے منصوبہ جات کی طرف تیزی سے پیش قدمی ہورہی ہے۔

الغرض !یہ اللہ رب العزّت کا بہت بڑافیضان وانعام ہے کہ اس نے اس آستانے کو ایسارفیق عطا فرمایاہے جنہوں نے صحیح معنوں میں اپنے آپ کو رفیق ابوالبیان ثابت کر دیا ہے۔

حضرت رفیق اُن کی نشانی ہیں ہُو بہ ہُو

ساقی نیا ہے اور پرانا ہی جام ہے

دعاہے کہ اللہ رب العزّت آپ کو عمر خضر عطا فرمائے …اس آستاں کو تاقیام قیامت شاد وآباد رکھے اورخلق خداکو اس کی شادابیوں سے بہرہ مند فرمائے ۔

 الٰہی تا ابد آباد آستان یار رہے

آسرا ہے غریبوں کا برقرار رہے

اللھم اٰمین  بحق  طٰہٰ  و یٰسین علیہ  التحیۃ    و التسلیم